factograf
UR

ریچھ

ریچھ

Key facts

نوعٹیکزون
صنف بندی نامUrsidae
صنف بندی درجہخاندان

ریچھ یا بھالو کا تعلق فصیلہ کارنیوورا (Carnivora) کے ارسی ڈی / ارسی ڈائی (Ursidae) خاندان سے ہے۔ یہ سطح زمین پر پایا جانے والا سب سے بڑا گوشت خور جانور ہے۔ زیادہ تر ریچھ خط استوا کے شمالی خطوں میں رہتے ہیں۔ انٹارکٹکا، آسٹریلیا یا افریقا میں جنگلی ریچھ نہیں پائے جاتے۔ ریچھ ہمہ خور جانور ہے اور سہولت کے مطابق شہد، پھل، سبزی، گوشت اور مچھلی وغیرہ سب کھا جاتا ہے۔ ریچھ کا جسم بڑا بھاری اور بڑے بڑے بالوں کی فر سے ڈھکا ہوتا ہے۔ اس کی ٹانگیں چھوٹی لیکن مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ہر پنجے میں پانچ انگلیاں ہوتی ہیں۔ ہر انگلی کے آخر پر ایک لمبا اور مضبوط ناخن ہوتا ہے۔ یہ ناخن کھانے، زمین کھودنے اور لڑائی کے دوران دفاع کے کام آتے ہیں۔ پنجوں کے نچلے حصوں پر بال نہیں ہوتے۔ ریچھوں کی جسامت میں فرق پایا جاتا ہے۔ سب سے چھوٹا ریچھ سن بیئر (Sun-bear) ہے جس کا وزن 30 کلوگرام [66 پاؤنڈ] اور سب سے بڑا ریچھ الاسکا کا بھورا ریچھ ہے جس کا وزن 780 کلوگرام [1،700 پاؤنڈ] ہوتا ہے۔ ریچھ دیکھنے میں بھدے لگتے ہیں، تاہم یہ بھاگنے کے علاوہ تیز رفتاری سے تیرنا بھی جانتے ہیں۔

ریچھ کی آنکھیں چھوٹی ہونے کی وجہ سے اس کی نظر کمزور ہوتی ہے۔ اگرچہ ان کی سماعت کی حس بھی کافی بہتر ہوتی ہے لیکن یہ زیادہ تر اپنی سونگھنے کی حس پر انحصار کرتے ہیں۔ ریچھ کی مختلف انواع میں 32 سے 42 دانت ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ دانت گوشت کی چیر پھاڑ کے لیے اور باقی چبانے کے لیے ہوتے ہیں۔ ریچھ ایک ذہین جانور ہے اور اسے کچھ سادہ کرتب بھی سکھائے جا سکتے ہیں۔ اکثر خانہ بدوش ریچھوں کو سدھا کر گلیوں بازاروں میں ان کے کرتب دکھا کر گذر بسر کرتے ہیں۔

ریچھ سرمائی خوابیدگی (Hibernation) اختیار نہیں کرتے۔ سردی سے پہلے ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ یہ کوئی غار یا موزوں پناہ گاہ تلاش کر کے اس میں رہنے لگتے ہیں۔ یہ سردیوں کے مہینوں میں گہری نیند سوتے ہیں، لیکن اگر دن میں دھوپ نکلی ہوئی ہو تو یہ غاروں سے نکل کر گھومنے پھرنے لگتے ہیں۔ ریچھ عموماً اکیلے رہتے ہیں، یعنی یہ تنہائی پسند جانور ہے۔ یہ گروہوں کی شکل میں سفر نہیں کرتے۔ ایک نر ریچھ اپنی مادہ (ریچھنی) کے ساتھ تقریباً ایک مہینے تک رہتا ہے۔ ملاپ کے کچھ عرصے بعد ریچھ اپنی مادہ سے علاحدہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد مادہ اکیلی رہ جاتی ہے اور اپنے لیے موزوں جگہ کی تلاش شروع کر دیتی ہے۔ ریچھوں کے دو بچے عام طور پر موسم سرما میں پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ ریچھنیاں چار بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ پیدائش کے وقت بچوں کے جسم پر بال نہیں ہوتے اور ان کا وزن صرف 0.5 کلوگرام [1 پاؤنڈ] ہوتا ہے۔ یہ ماں کے ساتھ دو سال تک رہتے ہیں۔ اس دوران ماں (ریچھنی) انھیں شکار اور اپنی حفاظت کرنا سِکھاتی ہے۔

مزید دیکھیے

نگارخانہ

6 images

Read next

In 200 languages

urадыгабзэAfrikaansAlemannischአማርኛPangcaharagonésÆngliscअंगिकाالعربيةܐܪܡܝܐمصرىঅসমীয়াasturianuAtikamekwаварKotavaAymar aruazərbaycancaتۆرکجهбашҡортсаBasa BaliBatak TobaBikol Centralбеларуская (тарашкевіца)беларускаябългарскиBislamaবাংলাབོད་ཡིགbrezhonegbosanskiBatak Mandailingбуряадcatalà閩東語 / Mìng-dĕ̤ng-ngṳ̄нохчийнCebuanoᏣᎳᎩTsetsêhestâheseکوردیcorsuqırımtatarcačeštinaчӑвашлаCymraegdanskdagbanliDeutschZazakidolnoserbskiΕλληνικάemiliàn e rumagnòlEnglishEsperantoespañoleestieuskaraفارسیsuomiføroysktfrançaisarpetanNordfriiskFryskGaeilge贛語GàidhliggalegoગુજરાતીwayuunaikiHausa客家語 / Hak-kâ-ngîHawaiʻiעבריתहिन्दीhrvatskihornjoserbsceKreyòl ayisyenmagyarհայերենԱրեւմտահայերէնinterlinguaJaku IbanBahasa IndonesiaгӀалгӀайIdoíslenskaitalianoᐃᓄᒃᑎᑐᑦ / inuktitut日本語la .lojban.JawaქართულიQaraqalpaqshaTaqbaylitадыгэбзэKabɩyɛқазақшаಕನ್ನಡ한국어перем комиکٲشُرkurdîкомиkernowekкыргызчаLatinaLadinoLëtzebuergeschлаккулезгиLingua Franca NovaLimburgsLadinລາວlietuviųlatviešuमैथिलीмокшеньMalagasyолык марийMāoriMinangkabauмакедонскиമലയാളംмонголꯃꯤꯇꯩ ꯂꯣꯟमराठीкырык марыBahasa Melayuမြန်မာဘာသာэрзяньمازِرونیNapulitanoNedersaksiesनेपालीनेपाल भाषाNederlandsnorsk nynorsknorskDiné bizaadoccitanOromooиронਪੰਜਾਬੀPicardpolskiپنجابیپښتوportuguêsRuna Simiromânăarmãneashtiрусскийсаха тылаᱥᱟᱱᱛᱟᱲᱤsicilianuScotsسنڌيsrpskohrvatski / српскохрватскиSimple EnglishslovenčinaslovenščinachiShonaSoomaaligashqipсрпски / srpskiSeelterskSundasvenskaKiswahiliதமிழ்TayalತುಳುతెలుగుтоҷикӣไทยTagalogtoki ponaTok PisinTürkçeтатарча / tatarçaтыва дылудмуртئۇيغۇرچە / Uyghurcheукраїнськаoʻzbekcha / ўзбекчаvènetoTiếng ViệtWest-VlamsWinaray吴语хальмгייִדישVahcuengh文言閩南語 / Bân-lâm-gí粵語中文

Text from Wikipedia, CC BY-SA 4.0 · Source article