factograf
UR

بين النهرين

بین النہرین

بین النہرین

Key facts

نوعقدیم تمدن, تاریخی خطہ
ملکعراق
بیان کردہ بلحاظ ماخذبروخوف و یفروں دائرۃ المعارفی لغت
نقشہ بین النہرین
نقشہ بین النہرین

بین النہرین (انگریزی: Mesopotamia؛ عربی: مابين النهرين)، جسے تاریخی طور پر عراق یا بلاد الرافدین بھی کہا جاتا ہے، سے مراد دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان واقع وہ زرخیز اور تاریخی خطہ ہے جو دنیا کی قدیم ترین انسانی تہذیبوں مثلاً سومری، عکادی، اشوری اور بابل کا گہوارہ رہا ہے۔ اس خطے کی تہذیبی تاریخ چھ ہزار سال قبل مسیح سے بھی زیادہ پرانی مانی جاتی ہے۔

جغرافیائی حدود اور نام کا ارتقا

بین النہرین کی جغرافیائی ساخت بنیادی طور پر دجلہ اور فرات کے گرد گھومتی ہے، جو آرمینیائی برف پوش پہاڑوں سے نکل کر طویل سفر کے بعد خلیج فارس میں گرتے ہیں۔ فرات کی کل لمبائی تقریباً 2333 کلومیٹر ہے، جو شام میں 229,000 مربع کلومیٹر اور عراق میں 444,000 مربع کلومیٹر کے وسیع حوض کو سیراب کرتا ہے۔

مٹی کے قدیم کتبوں کے مطابق اس سرزمین کو ابتدائی عہود میں "اورو" (Uru)، "اورا" یا "اوری" اور سومری زبان میں "کی اوری" (یا "کی اورا") کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یونانی اصطلاح "میسوپوٹامیہ" کا لغوی مطلب بھی "دو دریاؤں کے درمیان کا خطہ" ہے، جبکہ عبرانی مآخذ میں اسے "شنعار" کہا گیا، جو دراصل "شمر" (Sumer) کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ عراق کا سب سے پہلا تاریخی نام "قلم" (بمعنی زمین) ملتا ہے، جو بعد میں "قنجی" (یعنی نہروں اور ندیوں کی سرزمین) میں تبدیل ہو گیا۔ اسلامی جغرافیہ دانوں نے اس خطے کے شمالی حصے کو "الجزیرہ" (جس میں دیارِ ربیعہ، دیارِ مضر اور دیارِ بکر شامل ہیں) اور جنوبی حصے کو "العراق" (یعنی ساحل) کا نام دیا اور ان دونوں کے درمیان کی حد الانبار سے تکریت تک جاتی تھی۔

قدیم ترین تہذیبیں اور ہجرتیں

بین النہرین کی سب سے پہلی اور منظم ترین تہذیب سومری تہذیب تھی، جسے بعض قدیم مآخذ میں "شمریون" لکھا گیا ہے۔ یہ لوگ قبل از مسیح تقریباً 4000 سال پہلے جنوبی عراق میں آباد ہوئے اور انھوں نے فنِ تحریر کی ایجاد، پکی ہوئی اینٹوں (آجر) کا استعمال اور قلعہ بند شہروں کی تعمیر جیسے کارنامے سر انجام دیے اور "ادب" (Bismya)، "اریدو" (Abu Shahrain)، "ورکاء" اور "نفر" جیسے تاریخی شہروں کی بنیاد رکھی۔

بعض قدیم مغربی ماہرینِ آثارِ قدیمہ (جیسے فرانسیسی محقق ٹیرین ڈی لاکوپری) نے سومریوں اور بابلیوں کے چینی تہذیب کے ساتھ گہرے روابط بتائے ہیں، کیونکہ دونوں تہذیبوں کی تصویری تحریر، فلکیات، طب اور نہری نظام میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق بابل کے لوگ ان اولیں معماروں کو ان کی عقلی بالادستی کی وجہ سے "کالے سروں والے لوگ" (ذوی الرؤس السوداء) کہتے تھے۔ بعد ازاں جزیرہ نما عرب سے آنے والے سامی قبائل نے اس علاقے میں بابل اور اشور کی سلطنتوں کی داغ بیل ڈالی اور نامور بادشاہ "حمورابی" کا تعلق بھی اسی سامی نسل سے تھا۔ تاریخی شواہد کے مطابق بابل کی تہذیب کے اصل ڈانڈے یمن کی قدیم تہذیب سے بھی ملتے تھے۔

بابل اور اشور کے عظیم شہر

بین النہرین کے سب سے بڑے شہر بابل کی بنیاد قبل از مسیح 3100 میں نمرود نے رکھی تھی۔ اسلامی روایات کے مطابق دنیا میں تعمیر ہونے والا پہلا شہر حران اور دوسرا بابل تھا۔ قبل از مسیح 2324 میں بابل کے کلدانیوں نے علمِ فلکیات اور ستاروں کی باقاعدہ رصد کا کام شروع کیا۔ بابل کی دوسری کلدانی سلطنت 625 ق م میں قائم ہوئی، جسے 538 ق م میں ایرانیوں (سائرس) نے مغلوب کر کے ختم کیا۔

بابل کی تاریخی دفاعی فصیلیں بے حد دیو ہیکل تھیں، جن کی بلندی 300 فٹ اور چوڑائی 87 فٹ تھی، جبکہ ان کا کل محیط 48 میل طویل تھا۔ اس خطے کے دیگر بڑے شہروں میں "نینوی" اور "آشور" شامل تھے، جو علم و حکمت اور مضبوط معابد کا مرکز تھے۔

زراعت اور نہری نظام

دجلہ اور فرات کے پانی کی بدولت بین النہرین کی مٹی بے حد زرخیز تھی، جس کے باعث یہ خطہ قدیم دنیا میں اناج اور گندم کا سب سے بڑا مرکز قرار پایا۔ عہدِ عباسیہ میں عراق کی گندم کی سالانہ پیداوار ایک کروڑ ٹن تک پہنچ گئی تھی، جس سے ساٹھ لاکھ آبادی کی کفالت ہوتی تھی۔ سومریوں اور بابلیوں نے زراعت کے لیے نہروں اور آبپاشی کا ایک نہایت منظم نظام تیار کیا تھا جو صحرائی پن کو مٹاتا تھا۔ بابل کے لوگ اپنے قلعوں اور دیواروں کو پانی کی مار سے بچانے کے لیے "ہیت" کے شہر سے لایا گیا "قار" (ڈامر یا پکی رال) استعمال کرتے تھے تاکہ فصیلوں کی جڑوں کو نقصان نہ پہنچے۔ سکندرِ اعظم نے بھی اپنے دور کے آخری حصے میں اس زرخیز میدان کی زراعتی چمک بحال کرنے کے لیے دجلہ کا پانی موڑنے کی غرض سے 480 کلومیٹر طویل "الاکوبوس" اور 256 کلومیٹر طویل "النہروان" نامی دو عظیم نہریں کھودنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

مذہبی عقائد اور ثقافت

بین النہرین کے قدیم شہر بابل، اُر، نینویٰ، آشور اور نمرود بت پرستی اور معبدوں سے بھرے ہوئے تھے، جہاں چاند (نانار)، سورج (شمش)، زہرہ (عشتار)، مریخ (مردوخ) اور تحریر کے دیوتا (نابو) جیسے معبودوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ انہی بتوں کی کثرت کے پسِ منظر میں ابراہیم علیہ السلام نے توحید کا پرچم بلند کیا اور ان کے بتوں کو پاش پاش کیا۔ اسی خطے میں مشہور تاریخی "شریعہ حمورابی" (کوڈ آف حمورابی) تحریر کی گئی، جو دنیا کی قدیم ترین باقاعدہ اور مفصل تحریری قانون کی دستاویز مانی جاتی ہے اور سامی زبان میں لکھی گئی تھی۔

اصطلاحی و انتظامی استعمال: اسلامی جغرافیہ دانوں کے ہاں "بین النہرین"

اصطلاح "بین النہرین" کو قرونِ وسطیٰ کے اسلامی جغرافیہ دانوں نے، خاص طور پر عراق کے اندر، دو مختلف انتظامی کورتوں (اضلاع) کے لیے بھی استعمال کیا ہے، جو خطۂ میسوپوٹامیہ کے علاوہ اس نام کا ایک الگ اور مقامی مفہوم رکھتی ہیں۔ مشہور جغرافیہ دان یاقوت الحموی نے اپنی تصنیف "معجم البلدان" میں اس نام کی دو الگ کورتوں کی وضاحت کی ہے:

  • بغداد کا کورہ بین النہرین: دجلہ کے مشرقی جانب واقع ایک انتہائی سرسبز علاقہ، جو متعدد زرخیز دیہاتوں اور کھیتوں ("قرى ومزارع") پر مشتمل تھا اور بغداد کے انتظامی امور کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔
  • موصل کا کورہ بین النہرین: موصل کی بقعاء کے درمیان واقع ایک وسیع انتظامی کورہ، جو کبھی نصیبین کے کنٹرول میں اور کبھی موصل کے عمال کے ماتحت رہتا تھا۔ اس کورہ میں ایک پہاڑی پر واقع مضبوط قلعہ "الجدیدہ" بھی تھا اور اس کی حدود بازنطینی سرحدی قلعے "حصنِ کیفا" سے متصل تھیں۔

جغرافیہ دان ابن عبد الحق البغدادی نے اپنی کتاب "مراصد الاطلاع على اسماء الامكنة والبقاع" میں بھی یاقوت الحموی کے انہی جغرافیائی بیانات کی توثیق کی ہے۔

بلادِ شام اور دمشق میں منسوب مقامات

عراق اور جزیرہ نما عرب کے علاوہ، بلادِ شام اور خاص طور پر دمشق کی تاریخ میں بھی "بین النہرین" ایک مانوس شہری عنوان کے طور پر سامنے آتا ہے۔ دمشق کے تاریخی جغرافیہ میں اس نام سے کئی شہری مقامات منسوب رہے ہیں، جن میں "حارۃ بین النہرین" (ایک تاریخی گلی یا محلہ)، "حمّام بین النہرین" (ایک قدیم مشہور غسل خانہ)، "مسجد بین النہرین" (شہر کی ایک تاریخی مسجد) اور دمشق کی حدود میں واقع دو دیگر تاریخی مواضع شامل ہیں۔ اسلامی دنیا کے نامور سیاح ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں حارتوں، حماموں، مساجد اور مواضع کے ضمن میں بین النہرین کا متعدد بار حوالہ دیا ہے۔ اسی طرح مؤرخ ابن الحمصی نے اپنی کتاب "حوادث الزمان ووفيات الشيوخ والأعيان" میں دمشق اور اس کے مضافات کے واقعات کے تناظر میں اس خطے کی عسکری و جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔

مزید دیکھیے

Read next

In 167 languages

urаԥсшәаAfrikaansAlemannischአማርኛaragonésالعربيةܐܪܡܝܐمصرىঅসমীয়াasturianuаварazərbaycancaتۆرکجهбашҡортсаBasa BaližemaitėškaBikol Centralбеларуская (тарашкевіца)беларускаябългарскиবাংলাbrezhonegbosanskiбуряадcatalà閩東語 / Mìng-dĕ̤ng-ngṳ̄нохчийнCebuanoکوردیčeštinaчӑвашлаCymraegdanskDeutschZazakiދިވެހިބަސްΕλληνικάEnglishEsperantoespañoleestieuskaraفارسیsuomifrançaisNordfriiskFryskGaeilge贛語kriyòl gwiyannenGàidhliggalegoگیلکیAvañe'ẽગુજરાતીHausa客家語 / Hak-kâ-ngîעבריתहिन्दीFiji HindihrvatskihornjoserbsceKreyòl ayisyenmagyarհայերենԱրեւմտահայերէնinterlinguaBahasa IndonesiaInterlingueIlokanoгӀалгӀайIdoíslenskaitaliano日本語PatoisJawaქართულიKabɩyɛқазақшаಕನ್ನಡ한국어перем комиkurdîkernowekкыргызчаLatinaLëtzebuergeschLingua Franca NovaLimburgsLadinlombardlingálalietuviųlatviešuMalagasyMinangkabauмакедонскиമലയാളംмонголဘာသာမန်मराठीBahasa Melayuမြန်မာဘာသာمازِرونیNedersaksiesPlattdüütschनेपालीनेपाल भाषाNederlandsnorsk nynorsknorskNouormandoccitanਪੰਜਾਬੀPicardpolskiPiemontèisپنجابیپښتوportuguêsromânăрусскийрусиньскыйсаха тылаᱥᱟᱱᱛᱟᱲᱤsardusicilianuسنڌيsrpskohrvatski / српскохрватскиසිංහලSimple EnglishslovenčinaslovenščinachiShonaSoomaaligashqipсрпски / srpskiSundasvenskaKiswahiliதமிழ்తెలుగుтоҷикӣไทยTürkmençeTagalogtoki ponaTok PisinTürkçeтатарча / tatarçaукраїнськаoʻzbekcha / ўзбекчаvènetoTiếng ViệtVolapükWinarayWolof吴语მარგალურიייִדישVahcuengh文言閩南語 / Bân-lâm-gí粵語中文

Text from Wikipedia, CC BY-SA 4.0 · Source article