factograf
UR

سلطنت عثمانیہ کا اٹھائیسواں سلطان اور خلیفہ ٔ اسلام

سلیم ثالث

سلیم ثالث

Key facts

تاریخ پیدائش24 دسمبر، 1761
تاریخ وفات29 جولائی، 1808
پیشہسلطان
مقام پیدائشاستنبول
مقام وفاتقسطنطنیہ
زوجیتSafizar Kadın
All data from the card 14
پیدائش
24 دسمبر 1761ء استنبول
وفات
29 جولا‎ئی 1808ء (47 سال) قسطنطنیہ
وجہ وفات
تیز دار ہتھیار کا گھاؤ
طرز وفات
قتل
شہریت
سلطنت عثمانیہ
مذہب
اسلام
رکن
عثمانی خاندان
والد
مصطفی ثالث
والدہ
مہر شاہ والدہ سلطان
بہن/بھائی
خدیجہ سلطان ، امینہ سلطان
خاندان
عثمانی خاندان
پیشہ
نغمہ ساز ، سلطان
مادری زبان
عثمانی ترکی
پیشہ ورانہ زبان
عثمانی ترکی ، ترکی ، فارسی ، عربی

سلطنت عثمانیہ کے زوال کو روکنے اور اس کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے جن عثمانی سلاطین نے قابل قدر کوششیں کی ان میں سلطان سلیم ثالث (1789ء تا 1807ء) کا نام سرفہرست ہے۔ سلطان سلیم میسور کے ٹیپو سلطان کا ہمعصر تھا۔ اس نے تعلیم عام کرنے اور جدید علوم کی اشاعت کی کوشش کی۔ اس کے دور میں فنِ جنگ سے متعلق کتابوں کا فرانسیسی زبان سے ترکی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ بری اور بحری فوجوں کو نئے سرے سے منظم کیا گیا اور اس نئی تنظیم کو "نظام جدید" کا نام دیا گیا۔ فرانسیسی انجینئروں اور توپچیوں کی مدد سے توپ ڈھالنے کے جدید طرز کے کارخانے قائم کیے گئے۔ جاگیرداری نظام اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھا۔ اس کے لیے سلیم نے جاگیرداری بھی ختم کردی۔

لیکن سلیم ان اصلاحات میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔ سلطان ٹیپو کی طرح مفاد پرست عناصر اور تنگ نظر لوگ سلیم کے خلاف ہو گئے۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ ینی چری جو کسی زمانے میں ترکی کی سب سے منظم اور طاقتور فوج تھی، نظام جدید کے خلاف تھی اور وہ اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتی تھی۔ ینی چری کے سپاہیوں نے جدید یورپی اسلحے اور جنگی طریقوں کو اختیار کرنے سے انکار کر دیا۔ شیخ الاسلام اسعد آفندی اصلاحات کے حامی تھے، لیکن 1807ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ نئے شیخ الاسلام عطاء اللہ آفندی ینی چری کے زیر اثر تھے۔ جاہل صوفیوں اور تنگ نظر علما نے جو دین کے علم اور اس کی روح سے قطعاً ناواقف تھے، مذہب کے نام پر اصلاحات کی مخالفت کی۔ یورپی طرز پر فوجوں کی تنظیم کو بے دینی سے تعبیر کیا، جدید فوجی وردیوں کو تشبہ بالنصاریٰ قرار دیا، سنگین تک کے استعمال کی اس لیے مخالفت کی گئی کہ کافروں کے اسلحے استعمال کرنا ان کے نزدیک گناہ تھا۔ سلیم کے خلاف یہ کہہ کر نفرت پھیلائی گئی کہ وہ کفار کے طریقے رائج کرکے اسلام کو خراب کر رہا ہے۔ عطاء اللہ آفندی نے فتویٰ دیا کہ ایسا بادشاہ جو قرآن کے خلاف عمل کرتا ہو بادشاہی کے لائق نہیں آخر کار 1807ء میں سلیم کو معزول کرکے قتل کر دیا گیا۔ "یہ پہلا موقع تھا کہ مذہبی پیشواؤں نے اپنی جہالت اورتاریک خیالی سے اسلام کے مانع ترقی ہونے کا غلط تخیل پیدا کیا"۔

حوالہ جات

سلیم ثالث
پیدائش: 24 دسمبر 1761 وفات: 28 جولائی 1808
شاہی القاب
ماقبل  سلطان سلطنت عثمانیہ
7 اپریل 1789 – 29 مئی 1807
مابعد 
مناصب سنت
ماقبل  خلیفہ
7 اپریل 1789 – 29 مئی 1807
مابعد 

Read next

In 72 languages

Text from Wikipedia, CC BY-SA 4.0 · Source article