factograf
UR

سر درد

سر درد
All data from the card 2
دیگر نام
Cephalalgia
اختصاص
اعصابیات

سر کو ہونے والے درد کو دردِ سر یا سردرد کہتے ہیں۔ کبھی کبھی گردن یا پیٹھ کے اوپر ہونے والا درد بھی سردرد میں شمار ہوتا ہے۔ سر درد سب سے زیادہ ہونے والی تکلیف ہے۔ عام طور پر سردرد کی کوئی سنجیدہ وجہ نہیں ہوتی۔ لیکن کبھی کبھار سردرد مہلک بیماریوں کا بھی سبب ہو سکتا ہے۔ اس مرض میں سر کے اعضاء میں درد اور الم ہوتا ہے اور مریض مضطرب و پریشان ہوجاتا ہے۔ سر درد کی مختلف اقسام ہیں جن میں یہ قابل ذکر ہیں:

صداع حارساذج

اِس میں بغیر کسی مادہ کے محض حرارت پہنچنے یا تفرقِ اتصال سے سر درد پیدا ہوتا ہے۔ اِس کی علامت یہ ہے کہ سر کی جلد چھونے سے گرم محسوس ہوتی ہے، پیاس کا غلبہ ہوتا ہے، منہ اور نتھنے خشک ہوتے ہیں۔ سرد اشیاء کے استعمال یا سرد تدابیر سے سکون ملتا ہے۔ گرم دواؤں کے استعمال سے اضطراب اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ فہم و عقل متاثر ہوتی ہے۔ نیند کم ہوجاتی ہے اور حواس میں کسی قدر تکدر پیدا ہوجاتا ہے۔

صداع بارد ساذج

اِس قسم میں کسی مادہ کے بغیر محض برودت سے درد سر پیدا ہوجاتا ہے۔ اِس میں کسی حد تک انسان مخبوط الحواس بھی ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے درد سر کی اِس قسم کو "خبط" بھی کہتے ہیں۔ اِس میں سر کی جلد چھونے سے سرد یعنی ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے۔ حواس میں تکدر، پراگندگی اور سستی ہوتی ہے۔ درد عام طور پر سر کے پچھلے حصہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ سرد تدابیر و اغذیہ کے استعمال سے روائیداد ملتی ہے اور گرم تدابیر و ادویہ سے سکون ملتا ہے۔

صداع دموی

اِس قسم میں عروق دماغیہ خون سے پُر ہوجاتی ہیں اور مرضی عوارض کا سبب بن جاتی ہیں۔ علامات یہ ہیں کہ:  چہرہ اور آنکھوں میں سرخی پیدا ہوتی ہے، پپوٹوں میں تہج ہوتا ہے۔ سر میں شدید گرانی، تمام سر میں خفیف یا شدید نوعیت کا درد ہوتا ہے۔ یہ درد عام طور پر گدی یعنی سر کے انتہائی عقبی جانب کے زیریں حصہ میں یا پیشانی میں زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اِس میں نبض عموماً سریع ہوتی ہے۔ مریض پر نیند کا غلبہ بہت ہوتا ہے تاہم مریض گہری نیند نہیں سوسکتا بلکہ غنودگی سے مشابہہ ایک کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اِس میں پیشاپ غلیظ ہوتا ہے۔ نازک مزاج افراد اور دماغی مشاغل والے لوگوں اور رنج و غم کی صورت میں شریانوں کی تڑپ میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ کانوں میں مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں جبکہ ضعف اور رِقت کی صورت میں چہرہ زرد پڑجاتا ہے۔ ہونٹ پھیکے، بے رونق اور اطراف سرد محسوس ہوتے ہیں۔ خفقان کی کیفیت معلوم ہوتی ہے۔ کنپٹیوں کی شریانیں زیادہ درد سے متاثر ہوتی ہیں۔

Read next

In 134 languages

urAfrikaansAlemannischaragonésالعربيةܐܪܡܝܐالدارجةمصرىঅসমীয়াasturianuazərbaycancaتۆرکجهбашҡортсаBoarischžemaitėškaбеларуская (тарашкевіца)беларускаябългарскиပအိုဝ်ႏဘာႏသာႏবাংলাbrezhonegbosanskicatalà閩東語 / Mìng-dĕ̤ng-ngṳ̄کوردیčeštinaCymraegdanskDeutschThuɔŋjäŋދިވެހިބަސްΕλληνικάEnglishEsperantoespañoleestieuskaraفارسیsuomifrançaisFryskGaeilgegalegoAvañe'ẽgungbeHausa客家語 / Hak-kâ-ngîעבריתहिन्दीFiji HindihrvatskiKreyòl ayisyenհայերենԱրեւմտահայերէնBahasa IndonesiaIgboIlokanoíslenskaitaliano日本語Jawaქართულიқазақшаಕನ್ನಡYerwa Kanuri한국어کٲشُرkurdîkernowekкыргызчаLatinaLugandaLimburgslombardlietuviųlatviešuMalagasyMinangkabauмакедонскиമലയാളംमराठीBahasa Melayuမြန်မာဘာသာэрзяньNedersaksiesPlattdüütschNederlandsnorsk nynorsknorskoccitanଓଡ଼ିଆиронਪੰਜਾਬੀpolskiPiemontèisپنجابیportuguêsRuna Simiromânăрусскийसंस्कृतम्саха тылаᱥᱟᱱᱛᱟᱲᱤسنڌيsrpskohrvatski / српскохрватскиසිංහලSimple Englishslovenčinaslovenščinashqipсрпски / srpskisvenskaKiswahiliதமிழ்తెలుగుтоҷикӣไทยTürkmençeTagalogTürkçeтатарча / tatarçaTwiудмуртукраїнськаoʻzbekcha / ўзбекчаTiếng ViệtWinaray吴语ייִדישVahcuengh文言閩南語 / Bân-lâm-gí粵語中文

Text from Wikipedia, CC BY-SA 4.0 · Source article